Fear is Always About the Future

خوف ہمیشہ مستقبل کے بارے میں ہوتاہے۔ چاہے خوفزدہ ہونے کا واقعہ حال میں ہی کیوں نہ پیش آرہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ نفسیاتی طور پر بندہ مستقبل کے بارے میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے خوفزدہ ہوجاتاہے۔ وہ مستقبل جس کی ابھی کچھ خبر نہیں کہ ہوگا بھی کہ نہیں۔ یا ہوگا تو کیسا ہوگا۔ ۱۹۸۸ میں ،مَیں کوٹ ادو میں جاب کرتا تھا۔ ایک دن میرے باس نے مجھے ایک ڈیکوریشن پیس گفٹ کیا اور کہا کہ اِسے اپنے کمرے کی دیوار پر آویزاں کرو۔ اور روزانہ صبح اسے ایک بار غور سے پڑھنے کے بعد اپنے دِن کا آغاز کیا کرو۔ میں نے حتی المقدور تمام عرصۂ ملازمت باس کی نصیحت پر عمل کیا۔ اس میں یہ لکھا تھا،

There are two days we shouldn’t worry about. Yesterday, which has gone forever and never will come back again. Tomorrow, which is unreal and unborn till the sunrise. only the day left is today…………and anyone can fight a battle just for one day

(Sir Idrees Azad)

************************************************

  • Ahmed Khalil Jazim بہت عمدہ کوٹیشن ہے گرو۔،۔۔ جیو
  • Abu Bakr خوف بحثیت ایک کیفیت کے واقعہء حال ہے اور اس کا یہ پہلو اس کے اسباب پر غور کرنے سے بھی زیادہ اہم ہے
  • Gulnaz Kausar یہ سب لکھا لکھایا تو ٹھیک ہے مگر جذبات کی دنیا میں کتابی باتیں کم کم ہی چلا کرتی ہیں ۔۔۔۔
  • Aayesha Mirzaa mera wajud haal hai
    yani khoof haal se jurra hua hai
  • Idrees Azad یہ درست نہیں ہے۔ ماضی کا خوف تو جملہ ہی معقول نہیں مطلب منطقی طور پر غلط ہے۔ اور حال کا خوف ہے تو پھر کس بات کا خوف ہے بھلا؟ یعنی موجود لمحے میں کیا ہونے والا ہے جس کا خوف ہے؟ اور اگر ہونے والا کا لفظ استعمال کرینگے تو وہ مستقبل ہوا۔ سو دھیان سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ کہ خوف ہمیشہ مستقل کا ہی ہوتا ہے۔
  • Abu Bakr آپ کا یہ کمنٹ کس کمنٹ کا جواب ہے ؟
  • Idrees Azad عائشہ مرزا صاحبہ کے ایک کمنٹ اور ایک پی ایم کا
  • Idrees Azad ابو! آپ نے جس کیفیت پر غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ وہ مشورہ اس طرح بنتاہے جیسے کوئی بخار میں درجہ حرارت چیک کرنے کا مشورہ دے رہا ہو۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ خوف کے وقت جسم میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہورہی ہوتی ہیں۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ خوف کو کیمیکلز کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے؟ کیونکہ آپ نے اسباب سے زیادہ کیفیت ِ حال پر غور کا مشورہ دیا۔ اسباب معلوم ہونگے تو گویا بخار کے اسباب معلوم ہونگے۔ اور وہ کہیں زیادہ ضروری ہے۔
  • Abu Bakr عائشہ کے خیالات اس موضوع پر عین وجودی ہیں اور میں ان سے متفق ہوں۔ خوف ایک کیفیت اور اس تعلق وجود سے ہیں۔ وجودیوں نے کوف پر بے بحا کام کیا ہے اور اور وہ سب بھی یہی کہتے ہیں۔ اسے ان کی زبان میں Dread کہتے ہیں۔ خوف کا Subject وجود ے اور وجود حال ہے۔ آپ عائشہ کے کمنٹ کو میرے کمنٹ کا تسلسل سمجھیں اور میرے کمنٹ کے ضمن میں دیکھیں
  • Idrees Azad میری طرف سے نو کمنٹس
  • Abu Bakr کیوں ؟
  • Muhammad Umar murshad….wohi ….khudi ki maot ha andeshah hay gooN na gooN….wali bat hogai
  • Muhammad Umar waisay is zimn main aik baat qabil e ghaor ha….aor woh yah k aakhirat bhi tu future main ha…yah alag bat ha k hamaray dilon main iska khaof kam ho gia ha….shaid yah kamzoor ya naqis imaan ki badaolat ha….warna ju insan kal nokri chinn janay k khaof se aaj darta ha….iski bhala itni jurrat kahan k roz e aakhrat k khaof se chutkara hasil kr le…!
  • Jabar Amin Hum apny zehen sy khdshon or khof ka nahait ghmbeer jal bun lyty hen..or us mn aysy uljaty hen k shotny ki koi rah baki nhi rehti……..aik msla ye b ha hum sb mamlat ko aik sath sochty hen…k wo aysa ho jaye ga wo aysa wo aysa…jin mn sy koi b nh hota.