عقل عمرُو عیّار کی زنبیل ہے۔ اس کے پاس ہرطرح کا جواز ہوتاہے۔ ہم اپنے عقائد، نظریات، خیالات، تفردات، جہالتوں، حماقتوں، گناہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض ہر ہر عمل اور فکر کو اپنی عقل سے جواز فراہم کرتے ہیں۔ ’’عقل کا کام ہی یہی کہ اپنی پسند کے فیصلوں اور اعمال کے حق میں طرح طرح کے جواز ڈھونڈ ڈھونڈ کرلائے۔ اس ضمن میں، میں آپ کو ایک واقعہ سناتاہوں۔

میں لڑکپن میں ایک بار تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک سہ روزے پر گیا تھا۔ جماعت سرگودھا گئی تھی۔ ایک دن امیر صاحب نے کہاکہ سرگودھا جیل کے قیدیوں کو جاکر تبلیغ کریں۔ اب قیدیوں کو تو ملاقاتی بن کر ملا جاسکتا تھا۔ سو امیر صاحب نے کہا کہ جو ملاقاتی اپنے رشتہ دار قیدیوں سے مل رہے ہوں ان کی وساطت سے کوشش کریں۔ جماعت کے کچھ لوگوں کو سرگودھا جیل بھیجا گیا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ قیدیوں سے ملاقات کے دوران ایک قیدی ملا جو معصوم بچی کے ساتھ زنا بالجبر کے کیس میں گرفتار تھا۔ ضیأ الحق کا زمانہ تھا۔ ایسے جرائم کے قیدیوں کا تو حشر نشر ہوجاتا تھا۔ وہ لڑکا جس وقت گرفتار کیا گیا تھا اسی وقت اس کی بھنویں، مونچھیں، داڑھی اور سَر کے بال اُسترے کے ساتھ منڈوا کر، اُسا کا منہ کالا کرکے، اُسے گدھے پر بٹھا کر سارے شہر میں ڈھولوں کے ساتھ گھمایا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ لوگ اس پر تھوکتے تھے۔ اور اس کا منہ تھوکوں کی وجہ سے گیلا، کالک کی وجہ سے سیاہ اور تھپڑوں اور جُوتوں کی وجہ سے لال ہوگیا تھا۔ خیر! جیل میں اُسے کوئی پانچواں مہینہ تھا۔ جب جماعت کے ساتھیوں نے اسے تبلیغ کرلی۔ تو میں نے اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ متکلم ِ جماعت کی اجازت کے بغیر پوچھ لیا،

’’تم نے چھوٹی سی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کیوں کی؟‘‘

اُس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔ اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’میں اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ گھر والے نہیں ہیں۔کوئی رشتہ دار نہیں ہے میرا دنیا میں۔سب مر کھپ گئے۔ ہمارے پڑوسیوں کی نظر ہروقت میری جائداد پر ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں گھر ان کو دے دوں یا سستے داموں انہیں بیچ دوں۔ وہ صبح شام مجھے سو سو طریقوں سے ورغلاتے رہتے ۔ کبھی اپنی جوان بیٹی کو کھانا اور سویٹ ڈشز بنا بنا کر بھیجتے تو کبھی اپنی بیگم صاحبہ کو۔ میں نے ایک دن اُن کے حق میں یوں فیصلہ کیا کہ اُن صاحب سے اُن کی بیٹی کا رشتہ مانگ لیا۔ میں سمجھا وہ دے دینگے کہ انہیں اِس طرح گھر بھی مل جائیگا۔ لیکن میں گھٹیا ذات سے ہوں اور اُن کی قوم بڑی ہے ۔ انہیں یہ بات بُری لگی۔ کچھ دن بعد انہوں نے مجھے اس طرح پھنسایا کہ کھانے میں نشے کی کوئی چیز ملا دی۔ کچھ دیر بعد اپنی چھوٹی بیٹی کو سویٹ ڈش کے ساتھ بھیج دیا۔ ممکن ہے اس میں بھی کچھ ملایا ہو۔ خدا جانے مجھے کیا ہوگیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی اور میں نے وہ غلطی کردی جو شاید کوئی انسان کبھی نہ کرے۔

بولیے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ محض ایک جواز تھا۔ جو اس نے اپنے قبیح فعل کو درست یا جائز یا کم ازکم قابل ِ معافی ثابت کرنے کے لیے پیش کیا اور یہ جواز گھڑا کس نے تھا؟ اُس کی عقل نے۔ آپ کسی بھی جیل میں جاکر ہرطرح کےقیدیوں سے ان کے جرائم کی وجہ پوچھیں۔ سب قاتل، چور، ڈاکو، لٹیرے، رسہ گیر، فراڈیے، سمگلرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام کے تمام آپ کو ایسے نادر و نایاب جوازوں کے ساتھ ملینگے کہ آپ بے اختیار کہہ اُٹھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔’’یار یہ بندہ تو مجرم نہیں یا کم ازکم قابل ِ معافی ضرور ہے‘‘۔
ہم جو دکھاوے کے لیے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ’’ہم بہت گناہ گار ہیں‘‘ درونِ دِل اپنے اپنے گناہوں کے جواز رکھتے ہیں۔ ہماری عقلیں ہمہ وقت یہ کام کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ میں نے کہا نا عقل عمرو عیار کی زنبیل ہے۔

(ادریس آزاد)

Wisdom