اُردو تقریر : حصہ ہائی ڈسٹرکٹ لیول

بیروزگاری ملک کی ترقی میں رکاوٹ

مرے بھائی تو دفتر میں کسے درخواست دیتا ہے
غریبوں کے لیے کوئی جگہ خالی نہیں ہوتی
زمینیں مردہ ہیں مولا! یہ لوگ افسُردہ ہیں مولا
یہاں تو تیری بارش سے بھی ہریالی نہیں ہوتی

جنابِ صدر،گرامی قدر، عالی نظر منصفینِ محفل اور میرے مہربان دوستو!

اس سے پہلے کہ میں بیروزگاری کی لعنت کو ملکی ترقی میں ایک خوفناک رُکاوٹ کہہ کر پکاروں۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک شریف آدمی کا نہایت عمدہ مقولہ سناؤں،

جب کبھی ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ذکر ہو تو میرے والدِ محترم کہا کرتے ہیں کہ، بے روزگاری صرف کاہلوں کے لیے ہوتی ہے۔ با ہمت لوگ کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتے۔

پیارے حاضرینِ محفل اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے گا کہ کیا یہ بات بالکل حقیقت نہیں؟

بے مہنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانہء فرہاد
صدرِعالی نظر،

آج اگربے روزگاری کے بھوت نے ہماری قوم کی ہڈیوں کا گُودا چاٹ چاٹ کر اِسے چند سرمایہ دار لُٹیروں کا غلام بنا دیا ہے ، آج اگر ہمارے فنکار ، مزدور، اہلِ ہنر، اہلِ علم ، اہلِ فن بے روزگار ہیں ، آج اگر ہماری قوم کی ترقی ، زوال کا روپ دھار چکی ہے تو اِس منظر نامے میں ہماری بدنصیبی سے زیادہ ہماری غفلت کا ہاتھ ہے۔ اگر ہم نے اپنی قوم کے لیے ٹیکنکل ایجوکیشن پر توجہ دی ہوتی، فنون کو قدم قدم پرعام کیا ہوتا، عوام کی صنعتی صلاحیتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سامنے لایا جاتا کوئی لوہے سے مشینیں بناتا تو کوئی کوئلے سے مشینیں چلادیتا کوئی بجلی پیدا کرتا تو کوئی مواصلاتی نظام درست کرنے میں لگ جاتا۔ ہمارے پاس ذخائر کی بھی کمی نہیں اور وسائل کی بھی کمی نہیں۔ ہم آگ اور خون کے دریا پارکر سکتے ہیں، پہاڑوں کی برفانی چوٹیوں کو عبور کرسکتے ہیں۔ طلاتم خیز موجوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے صدمات اور مصائب سہ کر بھی ہمارے پائے استقلال میں لغزش تک نہیں آسکتی۔ یزیدِ وقت کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر اپنا حق طلب کر سکتے ہیں۔تو پھر؟

میں تو کہتا ہوں کہ اپنا حقِ مزدوری سینہ ٹھوک کر لینا چاہیے، مت ڈرو! مت ڈرو! اِن بزدل ہوس پرست جھوٹے خداؤں سے مت ڈرو! اپنا حق ڈنکے کی چوٹ پر حاصل کرنا سیکھو!، پھر میں دیکھتا ہوں کہ کہاں کی بے روزگاری اور کہاں کی رکاوٹ۔

لینے سے تاج و تخت ملتا ہے
مانگے سے بھیک بھی نہیں ملتی
جنابِ والا!

میں نے پہلے کہا ناں کہ بے روزگاری کاہلوں کے لیے ہوتی ہے۔ اگر انسان کوتاہ ہمت نہ ہو، اُس کے پتے میں پانی ہو، رگوں میں خون دوڑتاہواور آنکھوں میں مزدور کی سی چمک ہو تو خُدا پاک کی قسم آگرہ کا تاج محل خریدنا بھی بس سے باہر نہیں رہتا۔

اب کے برس ہم گلشن والے اپنا حصہ پورا لیں گے
پھولوں کو تقسیم کریں گے کانٹوں کو تقسیم کریں گے
صدرِ عالیجا!

اِس میں کچھ شک نہیں کہ بے روزگاری ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے، مگر صرف زبانی جمع خرچ سے ہم کیا کر لیں گے؟

اِنّ اللہَ لا یُغَیِّرُ ما بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِرُ ما بِاَنفُسِہم

اِس آیتِ کریمہ کا ترجمہ علّامہ اقبال رحمۃاللہ علیہ نے یوں فرمایا،

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

صدرِ عالیجا! ہم بیروزگاری کا رونا کر ہر بار چُپ کیوں ہو جاتے ہیں ؟ذرا سوچیے! کہیں ہمیں دوسری قوموں کے آگے کشکول پھیلانے کی عادت تو نہیں ہو گئی؟۔ کہیں ہم بھکاریوں کی طرح اپاہج تو نہیں ہوگئے؟ کہیں ہم اندھے ، لُولے ، لنگڑے تو نہیں ہوگئے، خدارا! میری گزارشات پر غور کیجیے ! جناب ! ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے جس میں انسان دوسرے انسانوں کے سہارے کا حیلہ کرے۔

اپاہج اور بھی کر دینگی یہ بیساکھیاں تجھ کو
سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں
جنابِ صدر!

روزگار کے تمام شعبے اک دوسرے کے ساتھ یوں جڑے ہوتے ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء۔ تو پھر کون ہے جو دوسروں کی روزی روک رہا ہے؟ وہ رخنہ ، وہ رکاوٹ، وہ لعنت، وہ ذلّت، وہ بددیانتی ، وہ ظلم ، وہ ناانصافی کہاں واقع ہو رہی ہے کہ آج ہماری قوم کے نوجوان بے کار ہوکر دہشت گرد بن جاتے ہیں؟ اگر علم وہنر مفت مہیا کیا جاتا تو کیا ممکن تھا کہ بے روزگاری کا دیو ہماری نوجوان نسل کو نگل جانے کی جرأت کرتا؟ ہنر ہے تو پھر کوئی بے روزگاری نہیں۔ آج یہ ڈائس جو اس وقت سب مقررین کے لیے تختہء مشق بنا ہوا ہے ۔ کبھی اپنی نیچرل حالت میں تھا لیکن اس وقت اب ایک ماہرِ فن کے ہاتھوں کا شاہکار ہے ۔کیا نہیں ہے ہمارے پاس کرنے کو ؟ بس صرف ابراہیم کا ایمان چاہیے۔

جناب صدر :

ہم پر بے روزگاری کی لعنت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلط کی گئی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ناکارہ بنانے کا منصوبہ ، کسی اور ملک کے ایوانوں میں بنایا گیا تھا ۔جی ہاں! جنابِ والا! ہماری معیشت کویرغمال بنا کر اسلام آباد میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بنچ بٹھانے والے کون لوگ ہیں؟ دشمن ِ اسلام تو چاہتا ہی یہی تھا کہ ان میں نہ زندگی کی رمق باقی رہے، نہ روشنی کی جستجو، نہ مستقبل کی امید، نہ حال کی خبر ، نہ رنگ ، نہ ڈھنگ، نہ اُمنگ، نہ ترنگ، نہ شوخی، نہ ولولہ، نہ علم کا شوق، نہ ادب کا ذوق، نہ دل ، نہ ڈھڑکن ، نہ تپش ، نہ حرارت ۔ کچھ بھی باقی نہ رہے اُس نوجوان مسلم میں جس کی عظمت کے گیت علامہ اقبالؒ نے گائے تھے۔

جنابِ صدر!

اِن سازشوں سے ، اِن کوتاہیوں اور کم ہمتیوں سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ،

صبح ہونی چاہیے اور رات ڈھلنی چاہیے
لیکن اس کے واسطے تحریک چلنی چاہیے
عزیزانِ گرامی! دورِ حاضر تو ویسے بھی اُن لوگوں کے لیے مرگِ مفاجات کا پیغام لایا ہے جن کے بازوؤں میں پتوار کھینچنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اِس نظریہ کو سفاک زبان میں تمکن فی الارض کہا جاتا ہے۔ اور سہرا باندھا جاتا ہے تو ڈارون جیسے نادان کے سر پر، حالانکہ صدیوں پہلے مولانا روم ؒ اِسی نظریہ کا قرانی پہلوپیش فرما چکے تھے۔

یہ نظریہ جسے سروائی ول آف دی فٹّسٹ  (Survival f the fittest) کے نام سے مغرب میں مایوسیوں کا پیغام بنا کر نشر کیا گیا ہے درحقیقت بہ زبان قرآن لَتَرکَبُنّ طَبَقاً عَن طَبَق کہا جاتا ہے۔ اور زمین میں دھنس جاتی ہیں وہ قومیں جو سُستی، کاہلی اور کم ہمتی کو وطیرہ بنا لیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اُن کے لیے فرماتے ہیں۔

فَخَسَفنا

پس ہم نے اُنہیں زمین میں دھنسا دیا۔

زمین پر رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرح مرگِ مفاجات کا شکار ہوجانے سے تو کہیں بہتر ہے کہ آگ کے دریا میں چھلانگ لگا دی جائے۔

آخر میں ، میں ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گی،

قیادت ، ولولہ، جذبہ، اخُوّت کچھ نہ دے پائے
عقیدت،عشق،تابانی،محبت کچھ نہ دے پائے
خداوندا! ہمیں تو نے دیا یہ ملک پاکستان
مگر اس ملک کو ہم بے مروت کچھ نہ دے پائے

 *********