کیا سافٹویر کی پائریسی گناہ ہے؟ اور کیا ہمارے کمپیوٹر میں سافٹویر لیگل ہے؟

یہ ہمارا فرض ہے کہ قوم کے نوجوانوں اور بزرگوں کو مطلع کریں کہ وہ غیر دانستہ طور پر کس گناہ کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ ہم سافٹویر کی پائریسی کی بات کر رہے ہیں۔ اور سوفٹویر کی پایریسی گناہ ہے کیونکہ یہ سراسر چوری ہے۔

جو چیز پیسوں سے ہی ملتی ہے اور آپ اسےکسی ذریعے سے مفت حاصل کرتے ہیں (جو کہ بیچنے والا نہیں چاہتا) تو یہ سراسر چوری ہے۔

آپریٹنگ سسٹم (operating system)

آج پاکستان میں تقریبا۱۰۰ فیصد استعمال ہونے والے آپریٹنگ سسٹم پائریٹڈ ہیں یہاں تک کہ گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس اور تعلیمی اداروں میں بھی۔آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ تقریبا ہر انسٹال ہونے والا سافٹویر بھی پائریٹڈ ہے۔ اس قارون کے خزانے پر ہمارا کتنا حق ہے؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ جب نیا کمپیوٹر خریدتے ہیں تو بیچنے والا اشارہ بھی دیے بغیر آپ کو ایک کاپی مایکروسوفٹ ونڈوز کی دے دیتا ہے یا آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال کر دیتا ہے، اور آپ سوال تک نہیں کرتے، وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ آپ جانتے ہی نہیں کہ آیا یہ گناہ ہے بھی کہ نہیں۔ تو پھر گناہ آپ کے کھاتے میں کم اور بیچنے والے کے کھاتے میں زیادہ ہے۔

آپ سوچ کر بتائیں کہ کمپیوٹر پر کام کرتے وقت آپ مندرجہ ذیل فیچرز کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں؟
۔ ڈاکومیٹ ٹائپ کرنا یا پڑھنا
۔ انٹرنیٹ پہ براوزنگ یا میل چیک کرنا
۔ انسٹنٹ میسیجنگ یا چیٹ کرنا
۔ یا پھر فلم دیکھنا یا گانے سننا

کیا آپ اس کے علاوہ کچھ کرتے ہیں؟ ایک عام یوزر صرف یہی ٹاسکس کرتا ہے۔ اور اب، جب آپ جانتے ہی نہیں تھے کہ آپ پائریسی کر رہے ہیں تو فی الحال اپنا سسٹم دوبارہ انسٹال کرنے کی بجاےآلٹرنیٹ کے بارے میں سنیں۔ بتاے گئے چاروں ٹاسکس آپ کسی مفت کے آپریٹنگ سسٹم پر بھی کر سکتے ہیں، اور اس میں آپ کے پاس چنائو بھی کافی ہے۔

آپ (ubuntu) لینکس انسٹال کر سکتے ہیں۔ اس لینکس کی کاپی آپ (ubuntu.com) سے ڈائنلوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ آپریٹنگ سسٹم اس قسم کے تمام سافٹویر کے ساتھ آتا ہے جس میں چاروں قسم کے سافٹویر شامل ہوتے ہیں۔اور جو حضرات ونڈوز کو پسند کرتے ہیں وہ (ReactOS) انسٹال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بھی ونڈوز جیساآپریٹنگ سسٹم ہے لیکن مفت ہےاور اس پر ونڈوز کےعام استعمال کے تقریب تماما سافٹویر چل سکتے ہیں۔ گو کہ یہ آپریٹنگ سسٹم پوری طرح مکمل نہیں لیکن آپ کی ضرورت کے لیے کافی سے ذیادہ ہے۔

ReactOS – www.reactos.com
Ubuntu – www.ubuntu.com

سچ پوچھیں تو پاکستان میں بھی کچھ ایسے لوگ ہیں (بشمول میرے) جن کے پاس ونڈوز کے لائسنس ہیں جو انہوں نے باقاعدہ طور پر خریدے لیکن وہ ونڈوز استعمال نہیں کرتے، سب سے بڑی وجہ باقی سسٹمز کی آسانی بھی ہے اور لینکس کا سافٹویر مفت میں ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ونڈوز کے سافٹویر کی ڈیویلپ بھی لینکس میں رہتے ہوئےکی جا سکتی ہے۔

ڈسک ٹاپ سافٹوئیر (desktop software)

اب بات کرتے ہیں ایک عام یوزر کی کہ وہ کیا اور کہاں سے انسٹال کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے اگر آپ یوبنٹو (یا اوبنتو) استعمال کر رہے ہیں تو آپ کے سسٹم میں مندرجہ ذیل سافٹویر پہلے سے ہوگا۔ اور اگر آپ کو ئی اور آپریٹنگ سسٹم چنتے ہیں تو بھر بھی آپ یہ سب حاصل کر سکتے ہیں، آئیں ایک نظر ان سافٹویر پر ڈالتے ہیں۔

ڈاکومیٹ ٹائپ کرنا یا پڑھنا
اوپن آفس ۔ جو کہ پہلے اوریکل آفس بنا اور اب اپاچی آفس کے نام سے دستیاب ہے، سو فیصد مفت ہے اور ایم ایس آفس کی کوئی ایسی ڈاکومنٹ نہیں جو اوپن آفس میں نہ کھل سکے۔اوپن آفس میں ایم ایس ورڈ، ایم ایس ایکسل اور ایم ایس پاور پوائنٹ کے متبادل تمام ٹولز ہیں جو مائیکرو سافٹ آفس کی (DOC PPT XLS DOCX PPTX XLSX) فائلز کھول سکتا ہے، اور مذید فلو چارٹ وغیرہ کی ڈیزائننگ کے ٹولز بھی ہیں۔ یہ سافٹویر (openoffice.org) سے ڈاونلوڈ کیا جا سکتا ہے۔ تو پھر سوچیے کہ آپ کو مائیکروسوفٹ آفس کی ضرورت کیوں ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کی ذیادہ تر آفسز میں پی ڈی ایف (pdf) ڈاکومنٹ کا استعمال کافی ذیادہ ہوتا ہے یا پھر آپ کو ای میل میں وصول ہونے ڈاکومنٹ عموما پی ڈی ایف ہو تی ہے ، اس کی وجہ ایڈٹنگ سے پروٹیکٹ کرنا اور پرنٹنگ میں اچھے رزلٹ حاصل کرنابھی ہے۔ اس قسم کی ڈاکومنٹ بنانے کے لیے ہم لوگ پھر سے پائریٹڈ سافٹویر استعمال کرتے ہیں یعنی یاایڈوبی ایکروبیٹ رائٹر یا ایڈوبی ڈسٹلر یا پھر پرنٹر کے طور پر پی ڈی ایف جنریٹ کرنے کا انجن انسٹال کرتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ صرف ایک کلک سے اوپن آفس میں آپ پی ڈی ایف فائلز بنا سکتے ہیں، چاہے آپ ٹیکسٹ ڈاکومنٹ لکھ رہے ہیں یا پریزنٹیشن بنا رہے ہیں یا پھر ورک شیٹ پر کام کر رہے ہیں۔ اور پی ڈی ایف فائلز پڑھنے یا پرنٹ کرنے کے لیے آپ کو کسی ایکسٹرا سافٹویر کی ضرورت نہیں، بس ڈاکومنٹ پہ ڈبل کلک کریں اور ڈاکومنٹ ویوئر اسے کھول دے گا۔

انٹرنیٹ پہ براوزنگ یا میل چیک کرنا
اس کے لیے آپ کو کوی ایکسٹرا سافٹویر ڈاونلوڈ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ویب براوزر آپرایٹنگ سسٹم کے ساتھ پہلے سے انسٹال ہوا آتا ہے۔ فائیر فاکس براوزر اوبنتو لینکس میں پہلے سے شامل ہوتا ہے۔
ای میل چیک کرنے کے لیے متعدد حضرات (outlook express) آوٹ لک ایکسپریس کا استعمال کرتے ہیں جس میں میل میسجز آفلا ئن بھی موجود رہتے ہیں۔ اس کا متبادل سافٹویر (Evolution) لینکس میں پہلے سے انسٹال شدہ ہوتا ہے، اور دوسرا سافٹویر جو آوٹ لک سے کمپیٹبل ہے (Thunderbird)، بھی مفت (mozilla.org) سے ڈاونلوڈ کیا جا سکتا ہے۔

  انسٹنٹ میسیجنگ یا چیٹ کرنا
کسی بھی اکاونٹ سے لاگ ان کر کے چیٹ کرنے کے لیے مفت کا سافٹویر موجود ہے جس کا نام پجن ہے اور (www.pidgin.im) سے ڈاونلوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس سافٹویر میں آپ ایم ایس این، یاہو، اے او ایل، جی میل کے اکاونٹ، سکایپ (msn/hotmail, yahoo, gmail, skype etc) اور متعدد سروسز کے اکاونٹس سے لاگ ان کر سکتے ہیں۔

۴۔ فلم دیکھنا یا گانے سننا:
اس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وڈیو کے متعدد فارمٹ ہیں جو شاید آپ کے سسٹم پر آپ کا میڈیا پلیئر نہ چلا سکے، اس کے لیے آپ میڈیا پلییر کلاسک یا وی ایل سی ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

(mpc-hc.sourceforge.net)۔ عام وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی وڈیو چلانے کے لیے آپ کو کسی ایکسٹرا سافٹویر کی ضرورت نہیں۔

ڈیسکٹاپ پبلشنگ اور کمرشل لیول پہ استعمال ہونے والا سافٹویر (desktop publishing software)

پاکستان میں پرنٹنگ اور کمپوزنگ کے ادارے جو سافٹویر استعمال کرتے ہیں وہ ذیادہ تر پائیریٹڈ ہوتا ہے، جو کورل ڈرا اور ایڈوبی فوٹو شاپ ذیادہ استعمال ہوتے ہیں جس کے کمرشل لائسنس کی قیمت چھوٹے ادارے نہیں بھر سکتے حتا کہ بڑے پرنٹنگ پریس بھی پائیریٹڈ ورژن استعمال کرتے ہیں۔ ان دونوں سافٹویر کے آلٹرنیٹ مفت میں دستیاب ہیں مگر کوئی توجہ ہی نہیں کرتا۔ کورل ڈرا (Coral Draw) کے متبادل متعدد سافٹویر ہیں جن میں انک سکیپ اور سکنسل نمایاں ہیں (Inkscape and Skensil) جو کہ تقریبا ہر آپریٹنگ سسٹمز پر چلتے ہیں، اس کے علاوہ بھی اوپن آفس میں ڈرا کے نام سے ایک ٹول ہے جو ویکٹر ڈرائنگ کے لیے بہترین ہے۔ اور (photoshop) کا متبادل (gimp) ہے جو تقریبا ہر قسم کے آپریٹنگ سسٹم پر چل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بالکل فوٹو شاپ جیسا ہی سافٹویر چاہیے(جس کا جی یو آئی بھی ویسا ہو) تو کچھ روپے بھر کے (Pixel Editor) خرید لیں جو کے تمام بڑے آپریٹنگ سسٹمز پر چلتا ہے، اسے آپ خریدنے سے پہلے اسکا ٹرائل ورژن انسٹال کر کے ٹیسٹ کر سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے آپ اسے فوٹو شاپ سے مختلف یا کم نہیں پائیں گےاور اس میں فوٹو شاپ میں بنائی گئی فائلز آپ آسانی سے کھول سکتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:

حکومت کی عدم توجہ (irresponsibility)

ایک اور خاص بات جو میں اتھاریٹیز تک پہنچانا چاہوں گا۔ میاں شہباز شریف صاحب نے ایک بہت اچھا کام کیا کہ لیپ ٹاپ تقسیم کرتے وقت لینکس انسٹالڈ دیا، لیکن ان کی یہ کاوش رائیگاں گئی۔ کیونکہ پہلے وجہ یہ تھی کہ لینکس کا ایک کافی پرانہ ورژن انسٹال تھا اور تمام طالب علموں نے لیپ ٹاپس پر لینکس مٹا کر ونڈوز انسٹال کرا لی۔ وجہ شاید یہ بھی تھی کہ لینکس کو استعمال کرنے کی کوئی پریزنٹیشن یا نوٹ سٹوڈنٹس کو نہیں دیا گیا۔ کاش شہباز شریف صاحب کو اس نقصان کا اندازہ ہوتا کہ غریب طالب علموں نے لگ بھگ ۵۰۰ روپے اپنے جیب خرچ میں سے بھر کر واپس جان بوجھ کر اپنے آپ کو پائریسی کے نرغے میں دھکیل دیا۔ ایسی پریزنٹیشن تیار کرنے کے لیے ذیادہ سے ذیادہ ایک گھنٹےکا وقت درکار تھا جسے گورنمنٹ نے شاید وقت کا ضیاع سمجھا یا پھر مشورہ دینے والے ٹکنیکل لوگ یا تو نااہل تھے یا پھر انہوں نے کاہلی کا مظاہرہ کیا۔

اب بات کرتے ہیں پائیرایٹڈ سافٹویر کی فروخت کی۔ ہمارے بڑے شہروں میں یہ ایک نہایت منافع بخش اور بڑے پیمانے پر ہونے والا کاروبار ہے۔ جس میں خاص بات پائریسی کے خلاف گورنمنٹ کی کوئی خاص پالیسی سامنے نہیں ہے اور چھوٹی موٹی کمپنیاں پرنٹنگ پریس کی مدد سے لا محدود مقدار میں پائیریٹڈ سی ڈیز مارکٹ میں پھیلا دیتی ہیں اور ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ ایک خالی سی ڈی کی قیمت ۵ روپے سے لے کر ۱۵ روپے تک ہوتی ہے جس پر پائریٹڈ سافٹویر چھاپ کر ۲۵ سے ۱۰۰ روپے تک میں مارکٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پوچھنے پر دکانوں کے مالکان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہم سے کوئی نامعلوم افراد ہی آ کر بیچ جاتے ہیں۔ پائریٹڈ سافٹویر کا سی ڈیز پر چھپنا اور ان کے ریپر (wrappers) تیار ہونا، اس میں سے کسی فعل پر حکومت کا کوئی دھیان نہیں جو کہ سراسر ذیادتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائیریٹڈ فلموں کی سی ڈیز بھی بے فکری سے فروخت کی جاتی ہیں۔

سافٹویر اور پاکستانیوں کی قوت خرید

پاکستان میں ایک عام آدمی بمشکل ایک کمپیوٹر خریدتا ہے اور سچ پوچھیں تو اس کے پاس سافٹویر خریدنے کے لیے چند سو روپوں سے ذیادہ نہیں ہوتے، سچ تو یہ ہے کہ اس سے ذیادہ اس کی قوت خرید بھی نہیں۔ تو ایسے میں اگر وہ پائریسی کے بارے میں جانتا بھی ہے، تب بھی وہ سستا سافٹویر خرید لیتا ہے کیونکہ باقی سب بھی یہی کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ نہیں جانتا اور اسے بتایا جائے کہ آپریٹنگ سسٹم اور ڈیسکٹاپ سافٹویر مفت بھی حاصل کیا جا سکتا ہے تو شاید ۹۰ فیصد سے ذیادہ حضرات مفت کا سافٹویر ہی حاصل کریں اور ان میں کچھ نیا سیکھنے کی جستجو بھی پیدا ہو۔

مائیکروسوفٹ کے سافٹویر کی نصاب میں شمولیت

ایک اور بہت بڑی ذیادتی جو ہمارے تعلیمی نظام میں ہو چکی ہے، وہ یہ کہ پہلی جماعت کے بچوں کے کمپیوٹر کے کورسز سے لےکریونیورسٹی لیول تک مائیکروسوفٹ ونڈوزکا استعمال پڑھایا جاتا ہے یا اسی میں کام کرایا جاتا ہے۔ پروگرامرز کو عموما ایسے ٹولز پر کام کرایا جاتا ہے جو مایکروسوفٹ ونڈوز میں ہی چلتے ہیں۔ اور ان طالب علموں کو ان سافٹویر کا کوئی بھی حصہ (گھر پہ استعمال کے لیے) ادارے نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں طالبعلم بازار سے پائیریٹڈ ورژن خرید لیتے ہیں۔ اس کی مثال مائیکروسوفٹ وژئل سٹوڈیو ہے جس کے کچھ ورژن تو مفت میں ڈاونلوڈ کیے جا سکتے ہیں لیکن لیٹسٹ نہیں۔ پڑھانے والوں سے پوچھا جائے کہ اگر (++C)پڑھانی ہےتو لینکس پہ کیوں نہیں پڑھاتے؟ بچوں کو ڈرا ئنگ سکھانی ہے تو لینکس پر کیوں نہیں سکھاتے؟ ڈاکومنٹ ٹائپ کرنا سکھانا ہے یا سپریڈ شیٹ بنانا سکھانا ہے تو لینکس پر کیوں نہیں سکھاتے؟ جواب یقینا یہ ملے گا کہ ہمارے پاس ونڈوز کا اورجنل ورژن ہے (جو کہ عموما غلط بیانی ہوتی ہے)۔ تو بندہ پوچھے کہ کیا ایک طالب علم کے پاس گھر میں بھی ونڈوز کا اورجنل ورژن ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ سکھانے والے بھی لکیر کے فقیر بنے بیٹھے ہیں وہ اپنے وقت میں سے صرف آدھا گھنٹہ بھی کچھ نیا سیکھنے پر سرف نہیں کرنا چاہتے اور جو نساب ملا سالوں سے اسی کو ہی پڑھا رہے ہیں اور وہی ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو پہلے کے اساتذہ کرتے رہے۔ خدارہ کچھ نیا سیکھے اور قوم کو اس پائیریسی کی دلدل سے نکلنے میں مدد کیجیے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آج انٹرنیٹ کے دور میں کیا ہے جو آپ نہیں سیکھ سکتے؟ اور سیکھنے کو اپنی ہتک نہ سمجھیے۔ دوسرا، اگر آپ اس پر ڈٹے ہوے ہیں کہ ونڈوز کی سافٹویر ڈیولپمنٹ ونڈوز کے بغیر نہیں ہو سکتی تو آپ کا بیان غلط ہے۔ (win32 & win64) کی ڈیولپمنٹ آپ لینکس میں رہ کر کر سکتے ہیں، صرف ایک ایکسٹرا سافٹویر (wine) وائن انسٹال کر لیں جس کے ذریعے نہ صرف آپ ڈیولپمنٹ کر سکتے ہیں بلکہ آپ ڈیولپ ہوئے سافٹویر کو چلا بھی سکتے ہیں، اور اگر آپ (dot net) ڈاٹ نیٹ کی ڈیولپمنٹ کرنا چاہتے ہیں تو (mono-project.com) پہ وزٹ کریں اور دیکھیں کہ آپ کیا نہیں کر سکتے، مونومیں لکھا ہوا سورس کوڈ نہ صرف آپ ونڈوز کے لیے بلکہ اسے لینکس اور میکنٹوش ( mac) کے لیے بھی کومپائل (compile) کر سکتے ہیں۔ مذید، متعدد اداروں میں (Microsoft Visual Basic) وژوئل بیسک کا بہت ہی پرانا ورژن پڑھایاجاتا ہےجس کا مارکٹ میں کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ پرانے ٹولز سے ڈیولپ کیےگئے سافٹویر لیٹسٹ سسٹمز کے ساتھ کومپیٹبل نہیں ہوتے۔ اس سے اچھا ہے کہ ایسا ٹول پڑھایا جائے جس سے نہ صرف نئے سسٹمز کےلیے سافٹویر ڈیولپ ہو سکے بلکہ ذیادہ سے ذیادہ سسٹمز پر چل سکے، اس کے لیے(lazarus) جیسے ڈیولپمنٹ ٹول کا استعمال بہترین آپشن ہے جس میں وژوئل بیسک سے ملتی جلتی لینگوج یعنی (Delphi & Pascal) ڈیلفی اور پاسکل استعمال ہوتی ہے (جو کہ مفت ہے)۔ لینکس میں ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ تقریبا ہر ڈسٹریبیوشن کے ساتھ (C++ & C) سی پلس پلس اور سی لینگوج کے کمپائلرز مفت آتے ہیں یا پھر آسانی سے انسٹال کیے جا سکتے ہیں، اور ان لینگوجز کی بے تحاشہ آئی ڈی ایز (IDE – Integrated Development Environment) بھی مفت میں دستیاب ہیں۔

کیا اس ضمن میں انٹرنیٹ آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہے؟

بالکل کر سکتا ہے اگر آپ چاہیں تو۔ (facebook) فیس بک پر ایک نیا گروپ بنایا گیا ہے جس میں خصوصا پاکستانیوں کو نہ صرف کمپیوٹر اور پروگرامنگ کی مفت تعلیم دی جاتی ہےبلکہ آلٹرنیٹ سافٹویر کا بھی بے تحاشہ ذکر کیا جاتاہے جو آپ کو اس پائیریسی کے گناہ سے بچنے میں مدد کرے گا۔ اس گروپ میں پاکستان کےنہ صرف ٹیلینٹڈ پروگرامر حضرات ، اساتذہ، اور ٹیکنل لوگ حصہ لے رہے ہیں بلکہ سیکھنے والوں کی تعداد بھی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ اس گروپ میں سافٹویر ڈیولپمنٹ کے سادہ طریقوں پر ذیادہ توجہ دہ جا رہی ہے، اور ساتھ ساتھ مفت کے آپریٹنگ سسٹمز انسٹال کرنے کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔ گروپ کا لنک (www.facebook.com/groups/pakistaniprogrammers) ہے۔

(ubuntu) اوبنتو لینکس انسٹال کرنے کے بعداسے کیسے استعمال کرنا ہے؟

جن چار ٹاسکس کا میں نے ذکر کیا ان کے شارٹ کٹ آئیکنز آپ کو آسانی سے مل سکتے ہیں۔ اور پہلے انسٹالیشن کے بعد آپ کو سکرین کے اوپر والے حصے میں بائیں جانب تین (menus) مینیوز دکھائی دین گے، شروع میں صرف (Applications) ایپلیکیسنز کے مینیو کو کلک کر کے اپنی مطلوبہ ایپلیکیشن تلاش کریں اور اسے چلانے کے لیے اس کے آئیکن پر کلک کریں۔
نیا سافٹویر انسٹال کرنے کے لیے آپ کو کسی ویب سائٹ سے کچھ ڈاونلوڈ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (System) سسٹم کے مینیو کو کلک کریں اس میں مذید آپ کو ایک مینیو ( Administration) ایڈمنسٹریشن کا ملے گا اس پر کلک کر کے مذید مینیو کھلیں گے جن میں آپ نے (Synaptic Package Manager) سائناپٹک پیکج مینیجر پہ کلک کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے ایک نئی ونڈو کھلے گی یا پھرسسٹم آپ سے پاسورڈ مانگے گا (پاسورڈ صرف اسی صورت میں مانگا جائے گا کہ اگر آپ نے سسٹم کی انسٹالیشن کے وقت کوئی پاسورڈ دیا تھا) ۔ اس کے بعد پیکج مینیجر کی ونڈو اوپن ہو جائے گی جس میں لاکھوں کے حصاب سے سافٹویر کے نام ہوں گے جو سب مفت ہیں اور اگر آپ نے کوئی سافٹویر تلاش کرنا ہے تو ونڈو کے اوپر والے حصے میں آپ کو سرچ باکس ملے گا جس میں ٹائپ کرنے سے آپ کو مطلوبہ سافٹویر یا اسی کے فیچرز والا سافٹویر مل جائے گا۔ تجربہ کے لیے اس میں آپ (SPSS) ٹائپ کریں (جوکہ سٹیٹسٹکس کا سافٹویر ہےاور مفت کا سافٹویر نہیں) اور آپ کو اس کا متبادل فری سافٹویر (PSPP) مل جائے گا۔ انسٹال کرنے کے لیے سافٹویر کے نام پر ڈبل کلک کریں یا پھر رائٹ کلک کر کے (Mark for Installation) کے مینیو پر کلک کر دیں۔ ایسا کرنے سے سافٹویر انسٹالیشن کے لیے ریڈی ہے، بس آپ نے اوپر دیے گئے (Apply) ایپلائی کےبٹن پر کلک کرنا ہے اور سافٹویر انسٹالیشن شروع ہو جائے گی۔ اوبنتو یا کسی اور لینکس میں ذیادہ ترسافٹویر انٹرنیٹ سے ہی انسٹال ہوتا ہے اور وائرس کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔

کیا ہماری قوم کو دانستہ طور پر کرپٹ کیا گیا ہے (سافٹویر کی پائریسی کے ضمن میں)

لگتا کچھ ایسا ہی ہے۔ جہاں ساری دنیا میں (کچھ ممالک کو چھوڑ کر) سافٹویر کی پائریسی کے خلاف اقدامات اٹھائے جاتے ہیں پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتے۔ لگتا ہے کہ ہماری قوم کو دانستہ طور پر اس قسم کی کرپشن مین ملوث کیا گیا ہے اور جان بوجھ کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اگر حکومت وقت چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا، پائریٹڈ سافٹویر کی تقسیم سے لے کر اس کی فروخت تک سب کچھ کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اور خاص بات یہ کہ اگر سارے کام فری کے سافٹویر سے ہو سکتے ہیں تو آخر ہم پائریسی کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔ “کیوں؟”۔

*******************