دیباچہ

سقراط کی آخری تقریر پر مشتمل افلاطون کی کتاب “اپالوجی” کے پس منظر پر مشتمل یہ “پی ڈی ایف ” فائل اُس کتاب کا حصہ ہے جو ہم “دارالترجمہ ” پر تیار کررہے ہیں۔یہ کتاب “فلسفۂ یونان” کے مکمل اور تفصیلی تعارف پر مشتمل ہوگی۔اس فائل میں صرف “اپالوجی” کا پس منظر بیان کیا گیا ہے، جس کی اصل عبارت ہم نے “سپارک نوٹس” ڈاٹ کام پر موجود معیاری مضامین کے مختلف انگریزی اقتباسات سے لی ہے۔یہ مشقی ترجمے کے سلسلے کی کتاب ہے۔ اپنے مترجمین کی تربیت مقصود ہےچنانچہ ہمیں مشقی ترجموں کے لیے قدرے آسان انگریزی میں لکھے باترتیب اقتباسات کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ مضامین یا اقتباسات کسی باقاعدہ کتاب سے حاصل نہیں کیے۔یہ اقتباسات اگرچہ بڑے بڑے ‘اکیڈمکس’ کے لکھے ہوئے ہیں تاہم تمام واقعات اور حوالہ جات کی باقاعدہ تصدیق کی جاتی ہے۔

مندرجہ ذیل پس منظر کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے دارالترجمہ پر سب سے زیادہ مدد محمد عمر صاحب نے کی ہے۔جبکہ احمد حامدی صاحب اور عاصمہ رباب صاحبہ نے بھی حصہ لیا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہماری بظاہر اس معصومانہ سی کوشش کو بالآخر اہل ِ علم کی توجہ حاصل ہوگی اور ہم ایک دن پورے کاروان کی صورت جدید دنیا میں قدم رکھنے کے لیے تمام تر جدید علوم سے کماحقہُ استفادہ کررہے ہونگے۔ انشااللہ(دیباچہ ، جاری ہے)

Socrates, AC Grayling

فہرست مضامین
 پس منظر
 کردار
 سقراط پر مقدمے کے تمام واقعے کا خلاصہ
 جائزہ اور موضوع کا تذکرہ
 خلاصہ اور تجزیہ
 ابواب
 17a – 18a
 18a – 20c
 20c – 24e
 24b – 28a
 28a – 32e
 32e – 35d
 35e – 38b
 38c – 42a
 سوالات

اپالوجی کا پس منظر
سقراط کی زندگی(469 تا 399 قبل مسیح) اور تعلیمات مغربی فلسفہ کی بنیادوں کا حصہ ہے۔ سقراط جنگِ پیلونیشیا کے زمانے(431 تا 404 قبل مسیح) میں ایتھنز میں رہتا تھا۔اس جنگ میں ایتھنز کو سپارٹا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔اس جنگ سے ایتھنز کی تہذیب کے عروج کا دور ختم ہوگیا۔ ایتھنز کے نوجوانوں پر اس جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان حالات کا ذکر سقراط نے خود کبھی نہیں کیا۔ہم سقراط کے حوالے سے جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ اُس کے ہم عصروں کی زبانی ہم تک پہنچاہے۔چنانچہ یہ مواد مخلوط ہے اور اکثر مصنفین کی ذاتی تشریحات کی وجہ سے جانب دارانہ بھی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سقراط نے نہایت ہی سادہ زندگی گزاری۔ اس نے مال و دولت اور سیاسی رجحانات کو خود سے دور رکھا اور انکی بجاے ایتھنز کے عوامی مقامات کا رخ کر کے خود کو عوام کے ساتھ منسلک کیا اور ہر اس شخص کے ساتھ گفتگو کی جس کے ساتھ وہ کر سکتا تھا۔ اس نے پیلونیشیا کی جنگ کے کئی معرکوں میں امید کی کرن بن کر ایک ہراول سپاہی کا کردار بھی ادا کیا اور اپنی جرأت اور بہادری کی بدولت خاصا خراج تحسین بھی وصول کیا۔ 399 قبل مسیح میں سقراط کو 1500 لوگوں پر مشتمل ایک عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس پر ریاست میں رائج دیوتاؤں کو نہ ماننے، نئے دیوتا ایجاد کرنے اور ایتھنز کے نوجوانوں کو بہکانے کے الزامات تھے۔
سقراط کے اس مواخذے کی سب سے بڑی وجہ اسکے ان لوگوں کے ساتھ روابط تھے جو ایتھنز کے سیاسی نظام سے کنارہ کش رہتے تھے۔ مگر چونکہ سیاسی مجرموں کو استثنیٰ حاصل تھی لہذا سقراط کو سزا دینے کے لیے اس پر دوسرے الزامات لگانا ضروری تھا۔بالآخر سقراط کو بظاہر چند معمولی جرائم میں ملوث قرار دے کر سزاۓ موت سنا دی گئی۔
افلاطون(427 تا 347 قبل مسیح) جو کہ ‘اپالوجی’ کا مصنف ہے، سقراط کے پرستاروں میں سے ایک تھا اور سقراط کے بارے میں ہماری بیشتر معلومات کا ذریعہ افلاطون کے مکالمے ہیں۔
افلاطون ایتھنز کے ایک ممتاز خاندان میں پیدا ہوا۔ اس سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ سیاست کو بطور پیشہ اپنائے گا۔ تاہم سپارٹا کی مسلط کردہ 40 لوگوں پر مشتمل ظالم اشرافیہ ( 404 تا 403 ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے استادِ گرامی سقراط پر مقدمے اور سزا کے واقعہ نے اسے ایتھنز کی سیاسی زندگی سے متنفر کردیا۔ اوراس نے اپنی زندگی درس و تدریس اور فلسفیانہ تحقیق کیلیئے وقف کردی۔
افلاطون اُس وقت تک اپنی مشہور “اکیڈمی” کا آغاز کرچکا تھا(385 قبل مسیح)۔جس کے طالب علموں میں (معلم اوّل) ارسطو بھی شامل تھا۔یہ اکیڈمی 537 عیسوی تک یعنی تقریبا نو سو بارہ سال کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی۔ اور جدید مغربی تدریسی نظام کے بنیادی ڈھانچے کے طور پر جانی گئی۔ افلاطون کے خیالات عام طور پر مکالموں کی صورت میں محفوظ ہوئے جنہوں نے سقراط کو بطور فلم کا مرکزی کردار ظاہر کیا۔ سقراطی مکالمے اس وقت ایک خاص انداز کا نام تھا۔ نہ صرف افلاطون بلکہ سقراط کے دیگر کئی طلباء نے فلسفیانہ مباحث کو اس انداز میں قلمبند کیا ہے۔ افلاطون کے مکالموں کا شمار عام طور پر قدیم، درمیانے اور جدید ادوار میں ہوتا ہے۔
ابتدائی مکالمے سقراط کی موت کے فوری بعد لکھے گئے اور یہ سقراط اور سقراتی فلسفے کے بہترین عکاس ہیں۔ تاہم جوں جوں افلاطون کا فہم پختہ ہوا، وہ تیزی سے ایک منفرد فلسفیانہ آواز بن کر ابھرا۔ درمیانے اور آخری ادوار کے مکالمات مثلاً ” ری پبلک” اور” فیڈو” ( Republic and Phaedo ) میں سقراط کی حیثیت فقط افلاطون کے خیالات ادا کرنے کے کردار کے سوا کچھ نہیں تھی۔ ‘اپالوجی’ افلاطون کے اولین دور کے مکالموں میں سے ایک ہے اور اس میں ہم اس کی ذاتی خصوصیات پر مبنی عقائد کی جھلک نہیں دیکھتے بلکہ یہ اس کی ایک جذباتی کوشش ہے اپنے استاد (سقراط) کا ایک ایماندار اور ہمدرد تصور پیش کرنے کی۔ شائد اس وقت افلاطون کا مقصد تھا کہ سقراط کے مقدمے کی سماعت اور اسکی سزا کے بعد وہ کسی حد تک سقراط کے کردار کا دفاع کر سکے۔

Apology